کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1232
1232 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، إِلاَّ الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ
مولانا داود راز
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو (اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1232
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 21 باب تمنى المجاهد أن يرجع إلى الدنيا»
حدیث نمبر: 1233
1233 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: لاَ أَجِدُهُ قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ، إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ، أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ وَلاَ تَفْتُرَ، وَتَصُومَ وَلاَ تُفْطِرَ قَالَ: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ
مولانا داود راز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اورعرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لئے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور (کوئی دن) بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا، بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1233
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 1 باب فضل الجهاد والسير»