کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: لڑائی کے وقت مجاہدین سے بیعت لینا مستحب ہے اور درخت کے نیچے بیعت رضوان کا قصہ
حدیث نمبر: 1213
1213 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ: أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ
مولانا داود راز
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں اس درخت کا مقام بتاتا۔ (جہاں بیعت رضوان ہوئی تھی)۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1213
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 35 باب غزوة الحديبية»
حدیث نمبر: 1214
1214 صحيح حديث الْمُسَيَّبِ بْنِ حَزْنٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَة، ثُمَّ أَتَيْتهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا
مولانا داود راز
حضرت مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے وہ درخت دیکھا تھا، لیکن پھر بعد میں جب آیا تو میں اسے نہیں پہچان سکا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1214
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 35 باب غزوة الحديبية»
حدیث نمبر: 1215
1215 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ
مولانا داود راز
یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1215
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 35 باب غزوة الحديبية»
حدیث نمبر: 1216
1216 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ زَمَنَ الْحَرَّةِ، أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْمَوْتِ فَقَالَ: لاَ أُبَايِعُ عَلَى هذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حرہ کی لڑائی کے زمانہ میں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہ بن حنظلہ لوگوں سے (یزید کے خلاف) موت پر بیعت لے رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میں موت پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1216
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 110 باب البيعة في الحرب أن لا يفروا»