کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوںکی جماعت کے ساتھ رہنا
حدیث نمبر: 1211
1211 صحيح حديث حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللهُ بِهذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ: نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ قَالَ: قَوْمٌ يَهْدُونَ بَغَيْرِ هَدْيي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ، دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا فَقَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذلِكَ
مولانا داود راز
ابو ادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی) عطا فرمائی ٗ اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا۔ میں نے عرض کیا وہ دھواں کیا ہوگا؟ آپ نے جواب دیا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور میرے طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے ۔ ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔ میں نے سوال کیا، کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ بھی آئے گا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے، ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لئے آپ کا حکم کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے تابع رہنا۔ میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ نے فرمایا : پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا، اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو۔ (تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہوگا)
حدیث نمبر: 1212
1212 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فلْيَصْبِرْ؛ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
مولانا داود راز
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے کیونکہ (خلیفہ کی) اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تواس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔