کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: امارت کی درخواست اور حرص منع ہے
حدیث نمبر: 1197
1197 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ سَمُرَةَ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْئَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْئَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا
مولانا داود راز
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبدالرحمان بن سمرہ!کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا۔ تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1197
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 1 باب قول الله تعالى (لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم»
حدیث نمبر: 1198
1198 صحيح حديث أَبِي مُوسى وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَبُو مُوسى: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَكِلاَهُمَا سَأَلَ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسى أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ فَقَالَ: لَنْ أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، وَلكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسى أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ إلَى الْيَمَنِ ثُمَّ اتَّبَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، قَالَ: انْزِلْ وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ قَالَ: مَا هذَا قَالَ: كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ قَالَ: اجْلِسْ قَالَ: لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ، قَضَاءُ اللهِ وَرَسُولِهِ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَمَّا أَنَا فَأَقُومُ وَأَنَامُ، وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي
مولانا داود راز
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میرے ساتھ اشعر قبیلے کے دو شخص تھے۔ ایک میرے داہنے طرف تھا، دوسرا بائیں طرف۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے۔ دونوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدمت کی درخواست کی، یعنی حکومت اور عہدے کی۔ آپ نے فرمایا: ابو موسیٰ یا عبداللہ بن قیس!(راوی کو شک ہے ) میں نے اسی وقت عرض کیا: یا رسول اللہ!اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ انہوں نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہیں کہی تھی اور مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں شخص خدمت چاہتے ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں جیسے میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں وہ آپ کے ہونٹ کے نیچے اٹھی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا جو کوئی ہم سے خدمت کی درخواست کرتا ہے ہم اس کو خدمت نہیں دیتے، لیکن ابو موسیٰ یا عبداللہ بن قیس!تو یمن کی حکومت پر جا (خیر ابوموسیٰ روانہ ہوئے) اس کے بعد آپ نے معاذ بن جبل کو بھی ان کے پیچھے روانہ کیا۔ جب معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے بیٹھنے کے لئے گدا بچھوایا اور کہنے لگے سواری سے اترئیے گدے پر بیٹھیے۔ اس وقت ان کے پاس ایک شخص تھا جس کی مشکیں کسی ہوئی تھیں۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا یہ یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا اب پھر یہودی ہو گیا ہے اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ سواری سے اُتر کر بیٹھے تو۔ انہوں نے کہا میں نہیں بیٹھتا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے موافق یہ قتل نہ کیا جائے گا تین بار یہی کہا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا وہ قتل کیا گیا۔ پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیٹھے۔ اب دونوں نے رات کی عبادت (تہجد گزاری) کا تذکرہ کیا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا میں تو رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور مجھے امید ہے کہ سونے میں بھی مجھ کو وہی ثواب ملے گا جو نماز پڑھنے اور عبادت کرنے میں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1198
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 88 كتاب استتابة المرتدين: 2 باب حكم المرتد والمرتدة»