کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: ثیبہ (بیوہ، مطلقہ) کا نکاح کے لیے زبان سے اجازت دینا ضروری ہے
حدیث نمبر: 895
895 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ کنواری عورت اجازت کیسے دے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔ (یہ خاموشی اس کی رضا مندی سمجھی جائے گی)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب النكاح / حدیث: 895
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 41 باب لا يُنْكِح الأب وغيره البكر والثيب إلا برضاها»
حدیث نمبر: 896
896 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ يُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تُسْتَأْمَرُ فَتَسْتَحِي فَتَسْكُتُ، قَالَ: سُكَاتُهَا إِذْنُهَا
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اگر اجازت لی جائے تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب النكاح / حدیث: 896
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 89 كتاب الإكراه: 3 باب لا يجوز نكاح المكره»