کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: ایک بھائی کے پیغام نکاح کا جب تک فیصلہ نہ ہو جائے تب تک پیغام دینا جائز نہیں
حدیث نمبر: 892
892 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلاَ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عمر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجنا چاہئے یہاں تک کہ پیغام نکاح بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب النكاح / حدیث: 892
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 45 باب لا يخطب على خطبة أخيه حتى ينكح أو يدع»