کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رمضان کے علاوہ روزوں کا بیان اور یہ کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ چھوڑنا چاہیے
حدیث نمبر: 711
711 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُه أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینہ نفلی روزے رکھتے نہیں دیکھا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 711
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 52 باب صوم شعبان»
حدیث نمبر: 712
712 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَقُولُ: خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے شعبان کے پورے دنوں میں آپ روزہ سے رہتے آپ فرمایا کرتے تھے کہ عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا تم خود ہی اکتا جاؤ گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو سب سے زیادہ پسند فرماتے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 712
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 52 باب صوم شعبان»
حدیث نمبر: 713
713 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلاً قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ، لاَ وَاللهِ لاَ يُفْطِرُ؛ وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ، لاَ وَاللهِ لاَ يَصُومُ
مولانا داود راز
سیّدناابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا آپ نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا قسم اللہ کی اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 713
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 53 باب ما يذكر في صوم النبي صلی اللہ علیہ وسلم وإفطاره»