کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: رمضان میں مسافر کو افطار کی رخصت ہے بشرطیکہ اس کا سفر دو یا دو سے زیادہ مرحلوں پر مشتمل ہو
حدیث نمبر: 680
680 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، فَأَفْطَرَ النَّاسُ
مولانا داود راز
سیّدناابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ کے موقع پر)مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ روزہ سے تھے لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ کو دیکھ کر روزہ چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 681
681 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلاً قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ؛ فَقَالَ: مَا هذَا فَقَالُوا: صَائمٌ فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ
مولانا داود راز
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر (غزوہ فتح) میں تھے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے آپ نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کچھ اچھا کام نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 682
682 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائمِ
مولانا داود راز
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے) لیکن روزہ دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے ۔