کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اس سے پہلے آدمی کھا پی سکتا ہے اور اس فجر کا بیان جس سے روزہ کے احکام متعلق ہیں اور صبح کی نماز کے وقت کا آغاز وغیرہ
حدیث نمبر: 660
660 صحيح حديث عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ) عَمَدْتُ إِلَى عِقَالٍ أَسْوَدَ، وَإِلَى عِقَالٍ أَبْيَضَ، فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي اللَّيْلِ فَلاَ يَسْتَبِينُ لِي، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذلِكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ
مولانا داود راز
سیّدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تاآنکہ کھل جائے تمہارے لئے سفید دھاری سیاہ دھاری سے (البقرہ۱۸۷) تو میں نے ایک سیاہ دھاگہ لیا اور ایک سفید اور دونوں کو تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور رات میں دیکھتا رہا مجھ پر ان کے رنگ نہ کھلے جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ اس سے تو رات کی تاریکی (صبح کاذب) اور دن کی سفیدی (صبح صادق) مراد ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 660
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري: 30 كتاب الصوم: 16 باب قول الله تعالى (وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم»
حدیث نمبر: 661
661 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: أُنْزِلَتْ (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ) وَلَمْ يَنْزِلْ مِنَ الْفَجْرِ فَكَانَ رِجَالٌ، إِذا أَرَادُوا الصَّوْمَ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلِهِ الْخَيْطَ الأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الأَسْوَدَ، وَلَمْ يَزَلْ يَأْكلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا، فَأَنْزَل اللهُ بَعْدُ مِنَ الْفَجْرِ فَعَلِمُوا أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
مولانا داود راز
سیّدناسہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آیت نازل ہوئی کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے سفید دھاری سیاہ دھاری سے کھل جائے (البقرہ ۱۸۷) لیکن من الفجر (صبح کی) کے الفاظ نازل نہیں ہوئے تھے اس پر کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ جب روزے کا ارادہ ہوتا تو سیاہ اور سفید دھاگا لے کر پاؤں میں باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگے پوری طرح دکھائی نہ دینے لگتے کھانا پینا بند نہ کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے من الفجر کے الفاظ نازل فرمائے پھر لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 661
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 16 باب قول الله تعالى (وكلوا واشربوا حتى يتبين»
حدیث نمبر: 662
662 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ تو رات رہے اذان دیتے ہیں اس لئے تم لوگ کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔
وضاحت:
عہد رسالت ہی میں یہ دستور تھا کہ سحری کی اذان سیّدنا بلال دیا کرتے تھے اور نماز فجر کی اذان سیّدنا عبداللہ بن ام مکتوم۔ عہد خلافت میں بھی یہی طریقہ رہا اور مدینہ منورہ میں آج تک یہی دستور چلا آرہا ہے۔ جو لوگ اذان سحری کی مخالفت کرتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اس اذان سے نہ صرف سحری کے لیے بلکہ نماز تہجد کے لیے جگانا بھی مقصود ہے۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 662
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 11 باب أذان الأعمى إذا كان له من يخبره»
حدیث نمبر: 663
663 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ بِلاَلاً كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ لاَ يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو کیونکہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 663
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 17 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا يمنعكم من سحوركم أذان بلال»
حدیث نمبر: 664
664 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائمَكُمْ وَلِيُنَبِّهَ نَائمَكُمْ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَقُولَ الْفَجْرُ أَوِ الصُّبْحُ وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ وَرَفَعَهَا إِلَى فَوْقُ وَطَأْطأَ إِلَى أَسْفَلُ حَتَّى يَقولَ هكَذَا
مولانا داود راز
سیّدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روک دے کیونکہ وہ رات رہے سے اذان دیتے ہیں یا (یہ کہا کہ) پکارتے ہیں تا کہ جو لوگ عبادت کے لئے جاگے ہیں وہ آرام کرنے کے لئے لوٹ جائیں اور جو ابھی سوئے ہوئے ہیں وہ ہوشیار ہو جائیں کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ فجر یا صبح صادق ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے (طلوع صبح کی کیفیت) بتائی انگلیوں کو اوپر کی طرف اٹھایا اور پھر آہستہ سے انہیں نیچے لائے اور پھر فرمایا کہ اس طرح (فجر ہوتی ہے)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 664
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 13 باب الأذان قبل الفجر»