کتب حدیث ›
اللؤلؤ والمرجان › ابواب
› باب: اگر ابن آدم کے سونے کی دو وادیاں ہوں تب بھی تیسری کی آرزو کرے
حدیث نمبر: 622
622 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ، وَلَنْ يَمْلأَ فَاهُ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ
مولانا داود راز
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں اور اور اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔
وضاحت:
مال کی محبت اور اس کی طلب میں کوشش، بنی آدم کی جبلت میں رکھ دی گئی ہے اور اس سے وہی سیر ہو سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ بچالے۔ اور اس جبلت کو اپنے نفس سے زائل کرنے کی توفیق دے دے۔ (مرتبؒ)
حدیث نمبر: 623
623 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالاً لأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ، وَلاَ يَمْلأُ عَيْنَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ
مولانا داود راز
سیّدناابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ اگر انسان کے پاس مال (بھیڑ بکری)کی پوری وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اسے ویسی ہی ایک اور مل جائے اور انسان کی آنکھ کو مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ سے توبہ کرتا ہے وہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔