کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مسلمانوں پر کھجور اور جو سے صدقہ فطر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 570
570 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى، مِنَ الْمُسْلِمِينَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوۃ آزاد یا غلام مرد یا عورت تمام مسلمانوں پر ایک صاع کھجور یا جو فرض کی تھی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 570
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 71 باب صدقة الفطر على العبد وغيره من المسلمين»
حدیث نمبر: 571
571 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ رضي الله عنه: فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کی زکوۃ فطر دینے کا حکم فرمایا تھا سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر لوگوں نے اسی کے برابر دو مد (آدھا صاع) گیہوں کر لیا تھا۔
وضاحت:
صحیح مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کی زکوٰۃ بلکہ اس کا دوگنا روپیہ میں دوں گا۔ سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ دو برس کی زکوٰۃ پیشگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے چکے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان تحصیل کرنے والوں کو زکوٰۃ نہ دی۔ بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ بالفعل ان کو مہلت دو۔ سال آئندہ ان سے دوہری یعنی دو برس کی زکوٰۃ وصول کرنا۔(مختصر ازوحیدی)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 571
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 74 باب صدقة الفطر صاعًا من تمر»
حدیث نمبر: 572
572 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم فطر کی زکو ایک صاع اناج یا گیہوں یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع زبیب (خشک انگور یا انجیر) نکالا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 572
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 73 باب صدقة الفطر صاعًا من طعام»
حدیث نمبر: 573
573 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا نُعْطِيَهَا، فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ وَجَاءَتِ السَّمْرَاءُ، قَالَ: أَرَى مُدًّا مِنْ هذَا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع زبیب (خشک انگور یا خشک انجیر) نکالتے تھے پھر جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دینہ میں آئے اور گیہوں کی آمدنی ہوئی تو کہنے لگے میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 573
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 75 باب صاع من زبيب»