کتب حدیث › اللؤلؤ والمرجان › ابواب › باب: دوران نماز یا نماز کے علاوہ مسجد میں تھوکنے کی ممانعت
❮
❯
319 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارَ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْههِ، فَإِنَّ اللهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى
مولانا داود راز
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی دیوار پر تھوک دیکھا آپ نے اسے کھرچ ڈالا اور لوگوں سے خطاب کر کے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے نہ تھوکے کیونکہ نماز میں منہ کے سامنے اللہ عزوجل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 319
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 33 باب حكّ البزاق باليد من المسجد»
320 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ، ثُمَّ نَهى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلكِنْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
مولانا داود راز
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر بلغم دیکھا تو آپ نے اسے کنکری سے کھرچ ڈالا پھر فرمایا کوئی شخص سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 320
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 36 باب ليبزق عن يساره أو تحت قدمه اليسرى»
321 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، فَقَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ور سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر بلغم دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اسے صاف کر دیا پھر فرمایا جب کوئی شخص تھوکے تو اسے سامنے یا داہنی طرف نہ تھوکنا چاہیے البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
وضاحت:
اس حدیث میں نماز کی قید نہیں۔ مگر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث (نمبر ۳۲۳) میں نماز کی قید ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت مطلق ہے۔ یعنی نماز میں ہو یا غیر نماز میں، مسجد میں ہو یا غیر مسجد میں، قبلہ رخ تھوکنا منع ہے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 321
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 34 باب حكّ المخاط بالحصى من المسجد»
322 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدار الْقِبْلَةِ مُخاطًا، أَوْ بُصَاقًا، أَوْ نُخَامةً فَحَكَّهُ
مولانا داود راز
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار پر رینٹ (ناک کا مواد) یا تھوک یا بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 322
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 23 باب حك البزاق باليد من المسجد»
323 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلاَ يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَو تَحْتَ قَدَمِهِ
مولانا داود راز
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے اس لئے وہ اپنے سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے ہاں بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 323
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 36 باب ليبزق عن يساره أو تحت قدمه»
324 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْبُزَاق فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا
مولانا داود راز
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے (زمین میں) چھپا دینا ہے ۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساجد ومواضع الصلاة / حدیث: 324
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 37 باب كفارة البزاق في المسجد»