حدیث نمبر: 288
288 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهِيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بچھونے پر نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی جیسے (نماز کے لئے) جنازہ رکھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 289
289 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ کے سامنے) بچھونے پر آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
حدیث نمبر: 290
290 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهَا (عَائِشَةَ) مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ، الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ: شَبَّهْتُمُونَا بالْحُمُر وَالْكِلاَب وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقبْلَةِ، مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فأُوذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْد رِجْلَيْهِ
مولانا داود راز
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے سامنے ان چیزوں کو ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں یعنی کتا گدھا اور عورت اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کر دیا حالانکہ اللہ کی قسم خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی مجھے کوئی ضرورت پیش آتی اور چونکہ یہ بات مجھے پسند نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوں) بیٹھوں اور اس طرح آپ کو تکلیف ہو اس لئے میں آپ کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 291
291 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيتَوَسَّطُ السَّرِيرَ، فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِي السَّرِيرِ حَتَّى أنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنا دیا حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور چارپائی کے بیچ میں آ جاتے (یا چارپائی کو اپنے اور قبلہ کے بیچ میں کر لیتے) پھر نماز پڑھتے مجھے آپ کے سامنے پڑے رہنا برا معلوم ہوتا اس لئے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کر لحاف سے باہر نکل جاتی۔
حدیث نمبر: 292
292 صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلاَيَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: والْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ
مولانا داود راز
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھی میرے پاؤں آپ کے سامنے (پھیلے ہوئے) ہوتے جب آپ سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 293
293 صحيح حديث مَيْمُونَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ
مولانا داود راز
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں حائضہ ہونے کے باوجود آپ کے سامنے ہوتی اکثر جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے چھو جاتا۔