حدیث نمبر: 248
248 صحيح حديث أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: سَوُّوا صَفُوفَكمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفوفِ مِنْ إِقَامَةِ الصَّلاَةِ
مولانا داود راز
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں برابر رکھو کیونکہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔
حدیث نمبر: 249
249 صحيح حديث أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: أَقِيمُو الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي
مولانا داود راز
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھ کر لو میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوں۔
وضاحت:
صفوں کو درست کرنا اس قدر اہم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی دستور رہا ہے کہ جب تک صفیں بالکل درست نہ ہو جاتیں یہ نماز شروع نہیں کیا کرتے تھے۔ عہد فاروقی میں اس مقصد کے لیے لوگ مقرر تھے جو صف بندی کراتے تھے۔ (راز)
حدیث نمبر: 250
250 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ
مولانا داود راز
سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز میں اپنی صفوں کو برابر کر لو نہیں تو خداوند تعالیٰ تمہارے منہ الٹ دے گا۔
وضاحت:
امام ابن حزم رحمہ اللہ نے ان احادیث کے ظاہر سے یہ کہا ہے کہ صفیں برابر کرنا واجب ہے اور جمہور علماء کے نزدیک سنت ہے۔ برابر رکھنے سے یہ غرض ہے کہ ایک خط مستقیم پر کھڑے ہوں۔ آگے پیچھے نہ کھڑے ہوں۔ (وحید الزمان رحمہ اللہ)
حدیث نمبر: 251
251 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور نماز پہلی صف میں پڑھنے سے کتنا ثواب ملتا ہے پھر ان کے لئے قرعہ ڈالنے کے سوائے اور کوئی چارہ نہ باقی رہتا تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لئے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے تو اس کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے تو ضرور چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لئے آتے۔