کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: مقتدی کو امام کی پیروی ضروری ہے
حدیث نمبر: 232
232 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى بِنا قَاعِدًا، فَقَعَدْنَا؛ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ؛ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَع فارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا
مولانا داود راز
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے زمین پر گر گئے اس گرنے سے آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا تو ہم آپ کی خدمت میں عیادت کی غرض سے حاضر ہوئے اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ہم بھی بیٹھ گئے جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا کہ امام اس لئے ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 232
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 128 باب يهوى بالتكبير حين يسجد»
حدیث نمبر: 233
233 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا؛ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
مولانا داود راز
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں میرے ہی گھر میں نماز پڑھی آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ امام اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لئے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو
وضاحت:
جب امام عذر کی بنا پر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کیا کرے؟ جمہور علماء سلف اور امام ابوحنیفہ اور امام شافعی وغیرہم کے نزدیک جب امام بیٹھ کر نماز پڑھا رہا ہو تو مقتدی جو قیام کی قدرت رکھتا ہے کھڑے ہو کر اقتداء کرے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ بیٹھ کر نماز پڑھائی اور پیچھے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ور دیگر صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ یہی بات امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد حمیدی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے جو صحیح بخاری میں نقل ہے اور وہ اس حدیث کو منسوخ قرار دیتے ہیں جس میں یہ ہے کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 233
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 51 باب إنما جعل الإمام ليؤتم به»
حدیث نمبر: 234
234 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی کرو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 234
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 82 باب إيجاب التكبير وافتتاح الصلاة»