کتب حدیثاللؤلؤ والمرجانابوابباب: نماز میں جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کا حکم
حدیث نمبر: 219
219 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو جب بھی وہ جھکتے اور جب بھی وہ اٹھتے تو تکبیر ضرور کہتے پھر جب فارغ ہوتے تو فرماتے کہ میں نماز پڑھنے میں تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھنے والا ہوں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 219
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 115 باب إتمام التكبير في الركوع»
حدیث نمبر: 220
220 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ؛ ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلاَةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا؛ وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ
مولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے پھر جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا ولک الحمد کہتے پھر جب سجدہ کے لئے جھکتے تب بھی تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب تکبیر کہتے اسی طرح آپ تمام نماز میں کرتے تھے یہاں تک کہ نماز پوری کر لیتے تھے قعدہ اولی سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 220
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 117 باب التكبير إذا قام من السجود»
حدیث نمبر: 221
221 صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَكْعَتَيْنِ كَبَّرَ؛ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هذَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلاَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا داود راز
مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے اور سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے جب نماز ختم ہوئی تو سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے آج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 221
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 116 باب إتمام التكبير في السجود»