حدیث نمبر: 719
719 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ، هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ، صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذلِكَ قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى
مولانا داود راز

سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو متواتر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا اگر تو یونہی کرتا رہا تو آنکھیں دھنس جائیں گی اور تو بے حد کمزور ہو جائے گا یہ کوئی روزہ نہیں کہ کوئی زندگی بھر (بلاناغہ ہر روز) روزہ رکھے تین دن کا (ہر مہینہ میں) روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے میں نے اس پر کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے تو آپ نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھا کر آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تو پیٹھ نہیں دکھلایا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 719
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 59 باب صوم داود عليه السلام»