اللؤلؤ والمرجان
كتاب الصيام— کتاب: روزہ کے مسائل
باب أجر المفطر في السفر إِذا تولى العمل باب: سفر میں روزہ افطار کرنے کا اجر
683 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَكْثَرُنَا ظِلاً الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَائِهِ؛ وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يَعْمَلُوا شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَبَعَثُوا الرِّكَابَ وامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِسیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے کچھ صحابہ روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا موسم گرمی کا تھا ہم میں زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا اپنا کمبل تان لیتا خیر جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام نہ کر سکے تھے اور جن حضرات نے روزہ نہیں رکھا تھا تو انہوں نے ہی اونٹوں کو اٹھایا (پانی پلایا) اور روزہ داروں کی خوب خوب خدمت بھی کی اور (دوسرے تمام) کام کئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج اجر و ثواب کو روزہ نہ رکھنے والے لوٹ کر لے گئے۔