حدیث نمبر: 679
679 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ قَالَ: مِمَّ ذَاكَ قَالَ: وَقَعْتُ بِامرَأَتِي فِي رَمَضَانَ قَالَ لَهُ: تَصَدَّقْ قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْء فَجَلَسَ وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا، وَمَعَهُ طَعَامٌ (قَالَ عَبْدُ الرَّحْمنِ، أحَدُ رُواةِ الْحَدِيثِ: مَا أَدْرِي مَا هُوَ) إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِق فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ: خذْ هذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي مَا َلأهْلِي طَعَامٌ قَالَ: فَكُلُوهُ
مولانا داود راز

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں پھر وہ بیٹھ گئے اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی (عبدالرحمن جو کہ حدیث کے راویوں میں سے ہیں نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جا رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آگ میں جلنے والے صاحب کہاں ہیں؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں؟ میرے گھر والوں کے لئے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھا لو۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصيام / حدیث: 679
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 86 كتاب الحدود: 26 باب من أصاب ذنبا دون الحد فأخبر الإمام»