اللؤلؤ والمرجان
كتاب الصيام— کتاب: روزہ کے مسائل
باب الشهر يكون تسعا وعشرين باب: مہینہ ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے
حدیث نمبر: 658
658 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ لاَ يَدْخُلُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا؛ فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْما غَدَا عَلَيْهِنَّ أَوْ رَاحَ؛ فَقِيلَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا قَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرَينَ يَوْمًامولانا داود راز
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک واقعہ کی وجہ سے) قسم کھائی کہ اپنی بعض ازواج کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے پھر جب انتیس دن گذر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح کے وقت گئے یا شام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک نہیں آئیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔