حدیث نمبر: 641
641 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلاَ يَرَى شَيئًا، وَيَيْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلاَ يَرَى شَيْئًا، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ
مولانا داود راز

سیّدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں ایک قوم ایسی پیدا ہو گی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے ان کے روزوں کے مقابلہ میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلہ میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے (اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ کہ تیر چلانے والا) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی (شکار کے خون وغیرہ کا) کوئی اثر نظر نہیں آتا اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا البتہ سوفار میں کچھ شبہ گذرتا ہے۔

وضاحت:
سو فار تیر کا وہ مقام ہے جو چلہ سے لگایا جاتا ہے۔ ان سے مراد خوارج ہیں۔ جنہوں نے خلیفہ راشد سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ بظاہر بڑا دین داری کا دم بھرتے تھے لیکن دل میں ذرا بھی نور ایمان نہ تھا۔(راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 641
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائِل القرآن: 36 باب من رايا بقراءة أو تأكل به أو فخر به»