اللؤلؤ والمرجان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کا بیان
باب إِعطاء من سأل بفحش وغلظة باب: سخت لہجہ سے مانگنے والے کو بھی دینے کا بیان
630 صحيح حديث الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيِّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: خَبَأْنَا هذَا لَكَ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُسیّدنامسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی انہوں نے (مجھ سے) کہا بیٹے چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں میں ان کے ساتھ چلا پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر ہوں چنانچہ میں اندر گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا آپ اس وقت انہی قباؤں میں سے ایک قبا پہنے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے چھپا رکھی تھی لو اب یہ تمہاری ہے مسور نے بیان کیا کہ (میرے والد) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قبا کی طرف دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مخرمہ خوش ہوا یا نہیں؟