حدیث نمبر: 629
629 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ أَثَّرَتْ بهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي عِنْدَكَ؛ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ
مولانا داود راز

سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا آپ نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ کو گھیر لیا اور زور سے کھینچا میں نے آپ کے شانے کو دیکھا اس پر زور سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا پھر کہنے لگا اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے آپ نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے پھر آپ نے اسے دینے کا حکم فرمایا۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 629
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 19 باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من الخمس ونحوه»