اللؤلؤ والمرجان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کا بیان
باب إِباحة الأخذ لمن أعطى من غير مسألة ولا إشراف باب: بغیر خواہش اور سوال کے لینا جائز ہے
حدیث نمبر: 619
619 صحيح حديث عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ: خُذْهُ، إِذَا جَاءَكَ مِنْ هذَا الْمَالِ شَيْءٌ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لاَ، فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَمولانا داود راز
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی چیز عطا فرماتے تو میں عرض کرتا کہ آپ مجھ سے زیادہ محتاج کو دے دیجئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ لے لو اگر تمہیں کوئی ایسا مال ملے جس پر تمہارا خیال نہ لگا ہوا ہو اور نہ تم نے اسے مانگا ہو تو اسے قبول کر لیا کرو اور جو نہ ملے تو اس کی پرواہ نہ کرو اور اس کے پیچھے نہ پڑو۔