حدیث نمبر: 592
592 صحيح حديث حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ يَأتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلاَ يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، يَقُولُ الرَّجُلُ لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ حَاجَةَ لِي بِهَا
مولانا داود راز

سیّدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا تھا کہ صدقہ کرو ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں پائے گا۔ (جس کے پاس صدقہ لے کر جائے گا) وہ یہ جواب دے گا کہ اگر تم کل اسے لائے ہوتے تو میں قبول کر لیتا آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 592
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 9 باب الصدقة قبل الرد»