حدیث نمبر: 590
590 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ سُلاَمَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ؛ يَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَو يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ، وَيُمِيطُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ
مولانا داود راز

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے اس طرح کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لئے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے۔

وضاحت:
مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان پر ہر جوڑ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا واجب ہے اس کا شکر کرنے کے لیے کہ اس نے اس کی ہڈیوں کے جوڑ بنائے جن سے وہ کچھ پکڑ اور کچھ لے، دے سکتا ہے۔ جوڑوں کے ذکر کو خاص کیا ہے کیونکہ تصرف اور حرکات و سکنات میں جوڑوں کا خاص دخل اور عمدہ کار کردگی ہے۔ (مرتبؒ)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الزكاة / حدیث: 590
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 128 باب من أخذ بالركاب ونحوه»