حدیث نمبر: 291
291 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيتَوَسَّطُ السَّرِيرَ، فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِي السَّرِيرِ حَتَّى أنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي
مولانا داود راز

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنا دیا حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور چارپائی کے بیچ میں آ جاتے (یا چارپائی کو اپنے اور قبلہ کے بیچ میں کر لیتے) پھر نماز پڑھتے مجھے آپ کے سامنے پڑے رہنا برا معلوم ہوتا اس لئے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کر لحاف سے باہر نکل جاتی۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 291
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 99 باب الصلاة إلى السرير»