اللؤلؤ والمرجان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے مسائل
باب دنو المصلي من السترة باب: نمازی کے سترہ کے قریب کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 287
287 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ: كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَ هذِهِ الأُسْطُوَانَةِ قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدهَامولانا داود راز
حضرت یزید بن ابی عبید رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سیّدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی) میں حاضر ہوا کرتا تھا سیّدنا سلمہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا میں نے ان سے کہا کہ اے ابو مسلم میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ خاص طور سے اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔
وضاحت:
سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسجد نبوی میں ایک ستون کے پاس قرآن شریف صندوق میں رکھا ہوتا تھا۔ اس کو ستون مصحف کہا کرتے تھے، یہاں اس کا ذکر ہے۔ (راز)