اللؤلؤ والمرجان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے مسائل
باب منع المار بين يدي المصلي باب: نمازی کے آگے سے گذرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 284
284 صحيح حديث أَبِي جُهَيْمٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِمولانا داود راز
بسر بن سعید نے کہا کہ زید بن خالد نے انہیں سیّدنا ابو جھیم عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لئے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گذرنے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے سیّدنا ابو جھیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گذرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گذرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔