حدیث نمبر: 263
263 صحيح حديث أُمِّ الْفَضْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ (وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا) فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ وَاللهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
مولانا داود راز

سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ام فضل (ان کی ماں) نے انہیں والمرسلات عرفا پڑھتے ہوئے سنا پھر کہا کہ اے بیٹے تم نے اس سورت کی تلاوت کر کے مجھے یاد دلا دیا آخر عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں میں یہی سورت پڑھتے ہوئے سنتی تھی۔

وضاحت:
راوي حدیث: سیدہ ام الفضل کا نام لبابہ بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا ہے، آپ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس تشریف لاتے تھے اور قیلولہ کیا کرتے تھے۔ یہی وہ خاتون ہیں جنہوں نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی جو آخری نماز پڑھائی اس میں سورۂ والمرسلات پڑھی تھی۔ ۳۰ احادیث روایت کی ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 263
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 98 باب القراءة في المغرب»