حدیث نمبر: 237
237 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَلاَ كُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ
مولانا داود راز

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ میں نے اس معاملہ (یعنی ایام مرض میں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے سلسلے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار پوچھا میں بار بار آپ سے صرف اس لئے پوچھ رہی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ جو شخص (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں) آپ کی جگہ پر کھڑا ہو گا لوگ اس سے کبھی محبت نہیں رکھ سکتے بلکہ میرا خیال تھا کہ لوگ اس سے بد فالی لیں گے اس لئے میں چاہتی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم نہ دیں۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الصلاة / حدیث: 237
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته»