اللؤلؤ والمرجان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے مسائل
باب التسميع والتحميد والتأمين باب: سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا لک الحمد اور آمین کہنے کا حکم
حدیث نمبر: 231
231 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ؛ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِمولانا داود راز
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین، کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ آمین کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
وضاحت:
لفظ آمین کے معنی یہ ہیں کہ ’’اے اللہ! میں نے جو دعائیں تجھ سے کی ہیں ان کو قبول فرمائیے۔‘‘ یہ لفظ یہود ونصاریٰ میں بھی مستعمل رہا اور اسلام میں بھی اسے استعمال کیا گیا۔ جہری نمازوں میں اس کا زور سے کہنا کوئی امر قبیح نہ تھا مگر افسوس کہ بعض علماء سوء نے رائی کا پہاڑ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سر پھٹول ہوئی اور عرصہ کے لیے دلوں میں کاوش پیدا ہوگئی۔ (راز)