اللؤلؤ والمرجان
كتاب البر والصلة والآداب— کتاب: نیکی اور سلوک اور ادب کے مسائل
باب فضل الإحسان إِلى البنات باب: بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت
1688 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ، مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا، تَسْأَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا، غَيْرَ تَمْرَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْنَا، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔‘‘