اللؤلؤ والمرجان
كتاب البر والصلة والآداب— کتاب: نیکی اور سلوک اور ادب کے مسائل
باب فَضْلِ مَنْ یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَ الغَضَبِ وَبِأَیْ شَیْئٍ یَذْہَبُ الغَضَبُ باب: غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو پانے والے کی فضیلت اور کس چیز سے غصہ دور ہو جاتا ہے
1677 صحيح حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ. قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَد، وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ. وَأَحَدَهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ، مُغْضَبًا، قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً، لَوْ قَالَهَا، لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ. لَوْ قَالَ: أَعُوذ بِالله مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم» . فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: أَلاَ تَسْمَعُ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍحضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جھگڑا کیا، ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص دوسرے کو غصہ کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے۔ اگر یہ ’’اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم‘‘ کہہ لے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ سنتے نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ میں دیوانہ نہیں؟