اللؤلؤ والمرجان
كتاب السلام— کتاب: سلام کے مسائل
باب لكل داء دواء واستحباب التداوي باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1421
1421 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ، أَوْ يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ، خَيْرٌ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ الدَّاءَ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَمولانا داود راز
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری (ان) دواؤں میں بھلائی ہے تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔