اللؤلؤ والمرجان
كتاب السلام— کتاب: سلام کے مسائل
باب بيان أنه يستحب لمن رُؤيَ خاليًا بامرأة وكانت زوجة أو محرمًا له أن يقول هذه فلانة ليدفع ظن السوء به باب: جو کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہو اور دوسرے شخص کو دیکھے تو اس سے کہہ دے کہ میری بیوی یا محرم ہے تاکہ اس کو بد گمانی نہ ہو
1404 صحيح حديث صَفِيَّةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ، فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ المَسْجِدِ، عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ، مَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالاَ: سُبْحَانَ اللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيْتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ رمضان کے آخری عشرہ میں، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں، تھوڑی دیر تک باتیں کیں پھر واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انھیں پہنچانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہاکے دروازے سے قریب والے مسجد کے دروازے پر پہنچیں تو دو انصاری آدمی ادھر سے گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سوچ کی ضرورت نہیں، یہ تو (میری بیوی) صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان دونوں صحابیوں نے عرض کی: سبحان اللہ! یا رسول اللہ! ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جملہ بڑا شاق گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمھارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔