اللؤلؤ والمرجان
كتاب اللباس والزينة— کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں
باب حريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والنامصة والمتنمصة والمتفلجات والمغيرات خلق الله باب: بالوں میں جوڑ لگانا اور لگوانا، گودنا اور گودوانا اور چہرے کی روئیں نکالنا اور نکلوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنا حرام ہے
حدیث نمبر: 1376
1376 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا، فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ؛ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَني أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا، فَقَالَ: لاَ، إِنَّهُ قَدْ لُعِنَ الْمُوصِلاَتُمولانا داود راز
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ (دوسرے مصنوعی بال) جوڑ لئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ (مصنوعی بال سر پر رکھ کر جو جوڑے تو ) ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔