حدیث نمبر: 1375
1375 صحيح حديث أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَامَّرَقَ شَعْرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا؛ أَفَأَصِلُ فِيهِ فَقَالَ: لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصولَةَ
مولانا داود راز

حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو چیچک نکلی ، اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 1375
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب اللباس: 85 باب الموصولة»