اللؤلؤ والمرجان
كتاب اللباس والزينة— کتاب: لباس اور زینت کے بیان میں
باب تحريم استعمال إِناء الذهب والفضة على الرجال والنساء، وخاتم الذهب والحرير على الرجل وإِباحته للنساء، وإِباحة العلم ونحوه على الرجل ما لم يزد على أربع أصابع باب: سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں کے لیے حرام ہے‘ سونے کی انگوٹھی اور ریشم مردوں پر حرام ہے اور عورتوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے
1338 صحيح حديث الْبَرَاءِ رضي الله عنه، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعِ: أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ؛ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ، أَوْ قَالَ: آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ وَالْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِحضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے ہم کو منع فرمایا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ، کہنے ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، سلام پھیلانے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھانے کے بعد کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں سے، چاندی میں پینے یا (فرمایا) چاندی کے برتن میں پینے سے، میثر (زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا) کے استعمال کرنے سے اور قسی (اطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے) کے استعمال کرنے سے اور ریشم و دیباج اور استبرق پہننے سے منع فرمایا تھا۔