حدیث نمبر: 1319
1319 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِقَدَحٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ، أَصْغَرُ الْقَوْمِ، وَالأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: يَا غُلاَمُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَهُ الأَشْيَاخَ قَالَ: مَا كُنْتُ لأُوثِرَ بِفَضْلِي مِنْكَ أَحَدًا، يَا رَسُول اللهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
مولانا داود راز

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ اور پانی کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک نو عمر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور کچھ بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکے! کیا تو اجازت دے گا کہ میں پہلے یہ پیالہ بڑوں کو دے دوں۔ اس پر اس نے کہا: یارسول اللہ! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے میں سے اپنے حصے کو اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ نے وہ پیالہ پہلے اسی کو دے دیا۔

وضاحت:
حدیث سے یہ نکلا کہ تقسیم میں پہلے دائیں طرف والوں کا حصہ ہے پھر بائیں طرف والوں کا۔ نیز حق اور نا حق کے مقابلہ میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کا لحاظ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نو عمر لڑکے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماتھے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأشربة / حدیث: 1319
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرحه البخاري في: 42 كتاب الشرب والمساقاة: 1 باب في الشرب»