اللؤلؤ والمرجان
كتاب الأشربة— کتاب: پینے کی اشیاء کا بیان
باب استحباب إِدارة الماء واللبن ونحوهما عن يمين المبتدى باب: دودھ پانی یا کوئی دوسری چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا
1319 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِقَدَحٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ، أَصْغَرُ الْقَوْمِ، وَالأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: يَا غُلاَمُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَهُ الأَشْيَاخَ قَالَ: مَا كُنْتُ لأُوثِرَ بِفَضْلِي مِنْكَ أَحَدًا، يَا رَسُول اللهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُحضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ اور پانی کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک نو عمر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور کچھ بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکے! کیا تو اجازت دے گا کہ میں پہلے یہ پیالہ بڑوں کو دے دوں۔ اس پر اس نے کہا: یارسول اللہ! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے میں سے اپنے حصے کو اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ نے وہ پیالہ پہلے اسی کو دے دیا۔