حدیث نمبر: 1304
1304 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ، يَوْمَئِذٍ، خَادِمَهُمْ، وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ سَهْلٌ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ
مولانا داود راز

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی (پانی) پلایا۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأشربة / حدیث: 1304
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 71 باب حق إجابة الوليمة والدعوة»