حدیث نمبر: 1298
1298 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قُلْتُ لِلأَسْوَدِ: هَلْ سَأَلْتَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ قَالَتْ: نَهَانَا فِي ذَلِكَ، أَهْلَ الْبَيْتِ، أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ قُلْتُ: أَمَا ذَكَرَتِ الْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ؛ أُحَدِّثُ مَا لَمْ أَسْمَعْ
مولانا داود راز

ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ (کھجور کا میٹھا شربت) بنانا مکروہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے عرض کیا ام المومنین!کس برتن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ خاص گھر والوں (اہل بیت) کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ) میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا؟ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأشربة / حدیث: 1298
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 74 كتاب الأشربة: 8 باب ترخيص النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الأوعية والظروف بعد النهي»