اللؤلؤ والمرجان
كتاب الإمارة— کتاب: امارت کے بیان
باب فضل الشهادة في سبيل الله تعالى باب: اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت
1233 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: لاَ أَجِدُهُ قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ، إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ، أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ وَلاَ تَفْتُرَ، وَتَصُومَ وَلاَ تُفْطِرَ قَالَ: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اورعرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لئے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور (کوئی دن) بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا، بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟