اللؤلؤ والمرجان
كتاب الإمارة— کتاب: امارت کے بیان
باب فضل الجهاد والخروج في سبيل الله باب: جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضیلت
1229 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: انْتَدَبَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، أَنْ أَرْجِعَهُ، بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، أَوْ أُدْخِلَه الْجَنَّةَ وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، وَلَوَدِدْت أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أُقْتلُ، ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلا، اللہ اس کا ضامن ہو گیا۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے اس کو (اس سرفروشی کے لیے گھر سے) نکالا ہے۔ (میں اس بات کا ضامن ہوں) کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ، یا (شہید ہونے کے بعد) جنت میں داخل کر دوں۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور اگر میں اپنی امت پر (اس کام کو) دشوار نہ سمجھتا تو لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا، اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔