حدیث نمبر: 1220
1220 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا قَالَ: نَعَمْ؛ قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللهَ لَنْ ِيَترَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا
مولانا داود راز

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا (یعنی یہ کہ آپ اجاز ت دیں تو میں مدینہ میں ہجرت کر آؤں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! اس کی تو شان بڑی ہے کیا تیرے پاس زکاۃ دینے کے لیے کچھ اونٹ ہیں جن کی تو زکاۃ دیا کرتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا ہے، سمندروں کے اس پار (جس ملک میں تو رہے وہاں) عمل کرتا رہ، اللہ تیرے کسی عمل کا ثواب کم نہیں کرے گا۔

وضاحت:
آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب تم اپنے ملک میں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کر رہے ہو تو خوامخواہ ہجرت کا خیال کرنا ٹھیک نہیں۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الإمارة / حدیث: 1220
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 36 باب زكاة الإبل»