حدیث نمبر: 886
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ كُنَّا لَنَأْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُجَافِي بِيَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ إِذَا سَجَدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صحابی رسول احمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں ( اور بازوؤں ) کو پہلووں سے اتنا دور کرتے کہ ہمیں ( اس مشقت کی کیفیت کو دیکھ کر ) ترس آتا ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ الگ رکھنے کی وجہ سے آپ کو کافی مشقت اٹھانی پڑتی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 158 ( 900 ) ، ( تحفة الأشراف : 80 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/342 ، 5/31 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 900

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 900 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سجدہ کرنے کا طریقہ۔`
احمر بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں (آپ کی تکلیف و مشقت پر) رحم آ جاتا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 900]
900۔ اردو حاشیہ:
یعنی ہاتھوں کو اپنی پسلیوں سے خوب دور کر کے رکھتے تھے اسی وجہ سے دیکھنے والوں کو ترس آتا کہ آپ بہت مشقت میں ہیں، مگر جماعت اور صف میں یہ صورت نہیں ہو سکتی۔ تاہم اگر بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے ایسانہ ہو سکتا ہو تو اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ جس طرح سجدہ کر سکتا ہے کر لے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 900 سے ماخوذ ہے۔