سنن ابن ماجه
كتاب المساجد والجماعات— کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں سونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقُوا " ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ ، وَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتُمْ نِمْتُمْ هَا هُنَا ، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا : بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن طخفة ( جو اصحاب صفہ میں سے تھے ) کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” تم سب چلو “ ، چنانچہ ہم سب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ، وہاں ہم نے کھایا پیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ “ ، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اصحاب صفہ وہ لوگ تھے جو مسجد نبوی کے صفہ یعنی سائباں میں رہتے تھے، گھر بار مال و اسباب ان کے پاس کچھ نہ تھا، وہ مسکین تھے، کوئی کھلا دیتا تو کھا لیتے، ان کے حالات کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5040 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی پیٹ کے بل لیٹے تو کیسا ہے؟`
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو “ تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ “ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ “ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! ہم کو پلاؤ “ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5040]
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو “ تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ “ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ “ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! ہم کو پلاؤ “ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5040]
فوائد ومسائل:
پیٹ کے بل سونا ناجائز ہے۔
افضل یہ ہے کہ دایئں کروٹ سویا جائے۔
پیٹ کے بل سونا ناجائز ہے۔
افضل یہ ہے کہ دایئں کروٹ سویا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5040 سے ماخوذ ہے۔