سنن ابن ماجه
كتاب الأذان والسنة فيه— کتاب: اذان کے احکام و مسائل اورسنن
بَابُ : مَا يُقَالُ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ باب: مؤذن کی اذان کے جواب میں کیا کہا جائے؟
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَقُولُوا مِثْلَ قَوْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مؤذن اذان دے تو تم بھی انہیں کلمات کو دہراؤ “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: البتہ کوئی عذر ہو یا ضرورت ہو تو دوسرا شخص تکبیر کہہ سکتا ہے، بلا ضرورت ایسا کرنا کہ اذان کوئی دے اور اقامت کوئی کہے مکروہ ہے، یہ امام شافعی کا قول ہے اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مؤذن کی اذان کے جواب میں کیا کہا جائے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب مؤذن اذان دے تو تم بھی انہیں کلمات کو دہراؤ “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 718]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب مؤذن اذان دے تو تم بھی انہیں کلمات کو دہراؤ “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 718]
اردو حاشہ:
فائدہ: (حَيَّ عَلَی الصَّلٰوة)
اور (حَيَّ عَلَي الْفَلَاح)
کے جواب میں(لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ)
کہنا چاہیے۔
باقی تمام الفاظ کے جواب میں اذان ہی کے الفاظ دہرائے جائیں دیکھیے: (صحيح مسلم، الصلاة، باب استجاب القول مثل قول الموذن لمن سمعه۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
الخ، حديث: 385)
فائدہ: (حَيَّ عَلَی الصَّلٰوة)
اور (حَيَّ عَلَي الْفَلَاح)
کے جواب میں(لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ)
کہنا چاہیے۔
باقی تمام الفاظ کے جواب میں اذان ہی کے الفاظ دہرائے جائیں دیکھیے: (صحيح مسلم، الصلاة، باب استجاب القول مثل قول الموذن لمن سمعه۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
الخ، حديث: 385)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 718 سے ماخوذ ہے۔