سنن ابن ماجه
أبواب التيمم— کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
. بَابُ : الْمَسْحِ عَلَى الْجَبَائِرِ باب: پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " فَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میری ایک کلائی ٹوٹ گئی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ؟ ، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 657]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا؟، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 657]
اردو حاشہ:
اس روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے کیونکہ ایسا شخص شرعا معذور ہے۔
اس روایت میں بیان کردہ مسئلہ درست ہے کیونکہ ایسا شخص شرعا معذور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 657 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 115 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´زخمی کا تیمم کرنا`
«. . . وعن علي رضي الله عنه قال: انكسرت إحدى زندي، فسالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فامرني ان امسح على الجبائر . . .»
”. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا گٹ ٹوٹ گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھا (کہ اب میں کیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پٹیوں پر مسح کر لیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 115]
«. . . وعن علي رضي الله عنه قال: انكسرت إحدى زندي، فسالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فامرني ان امسح على الجبائر . . .»
”. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا گٹ ٹوٹ گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھا (کہ اب میں کیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پٹیوں پر مسح کر لیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 115]
� لغوی تشریح:
«زَنْدَيَّ» ”زا“ پر فتحہ، ”نون“ ساکن اور ”یا“ پر تشدید ہے۔ ”زند“ کا تثنیہ ہے اور یائے متکلم کی طرف مضاف ہے۔ اور ”زند“ سے مراد ہتھیلی کی جانب بازو کا جوڑ ہے جسے «رُسْغٌ» ، یعنی گٹا (کلائی) کہتے ہیں۔
«اَلْجَبَائِر» «جَبِيرَة» کی جمع ہے۔ کپڑے یا لکڑی کا ٹکڑا جسے ٹوٹی ہوئی ہڈی پر مضبوطی سے لپیٹ کر باندھا جاتا ہے۔
«وَاهٍ» «وَهٰي يَهِي وَهِيًا» اور «وُهِيًّا» سے ماخوذ ہے۔
فوائد و مسائل:
نہایت کمزور اور ضعیف۔ اس حدیث کے ضعیف ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے۔ وہ نہایت جھوٹا اور دروغ گو آدمی تھا۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بقول اس حدیث کے ضعیف ہونے پر حفاظ حدیث کا اتفاق ہے۔
«زَنْدَيَّ» ”زا“ پر فتحہ، ”نون“ ساکن اور ”یا“ پر تشدید ہے۔ ”زند“ کا تثنیہ ہے اور یائے متکلم کی طرف مضاف ہے۔ اور ”زند“ سے مراد ہتھیلی کی جانب بازو کا جوڑ ہے جسے «رُسْغٌ» ، یعنی گٹا (کلائی) کہتے ہیں۔
«اَلْجَبَائِر» «جَبِيرَة» کی جمع ہے۔ کپڑے یا لکڑی کا ٹکڑا جسے ٹوٹی ہوئی ہڈی پر مضبوطی سے لپیٹ کر باندھا جاتا ہے۔
«وَاهٍ» «وَهٰي يَهِي وَهِيًا» اور «وُهِيًّا» سے ماخوذ ہے۔
فوائد و مسائل:
نہایت کمزور اور ضعیف۔ اس حدیث کے ضعیف ہونے کا سبب یہ ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے۔ وہ نہایت جھوٹا اور دروغ گو آدمی تھا۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بقول اس حدیث کے ضعیف ہونے پر حفاظ حدیث کا اتفاق ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 115 سے ماخوذ ہے۔