حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ ؟ فَقَالَ : " وَاكِلْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ کھاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / أبواب التيمم / حدیث: 651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الطہارة 83 ( 212 ) ، سنن الترمذی/الطہارة 100 ( 133 ) ، ( تحفة الأشراف : 5326 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/293 ) ، سنن الدارمی/الطہارة 108 ( 1113 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 133 | سنن ابي داود: 212

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے متعلق پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 651]
اردو حاشہ:
اس مسئلہ کی وضاحت حدیث: 643 کے تحت گزرچکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 651 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 133 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان۔`
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ کھاؤ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 133]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث آیت کریمہ: ﴿فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ﴾ [ البقرة: 222] کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 133 سے ماخوذ ہے۔